پیر 26 اکتوبر 2026 - 12:18
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کا مقام و مرتبہ اور لقب اُمّ ابیہا

حوزہ/ اگر ہم حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شخصیت کو دیکھیں تو آپ کے بہت سے القابات ہیں۔ ان میں سیدۂ نساء العالمین، خیر النساء العالمین، سیدۂ نساء اہلِ جنت، زہرا، مرضیہ اور زکیہ جیسے القابات مشہور ہیں۔ یہ تمام القابات آپ کی عظمت، پاکیزگی اور بلند مقام کی نشاندہی کرتے ہیں۔

تحریر: فرقان علی حوائج

حوزہ نیوز ایجنسی |

حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے حوالے سے لکھنے کا بندۂ حقیر خود کو قابل نہیں سمجھتا، کیونکہ آپ کی فضیلت، آپ کے کمالات اور آپ کا مقام و مرتبہ نہایت بلند ہے۔ آپ کی عظمت و فضائل کو بیان کرنا میرے جیسے حقیر انسان کے لیے آسان نہیں۔ تاہم چند جملے عرض کرنا چاہتا ہوں۔

اگر ہم حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شخصیت کو دیکھیں تو آپ کے بہت سے القابات ہیں۔ ان میں سیدۂ نساء العالمین، خیر النساء العالمین، سیدۂ نساء اہلِ جنت، زہرا، مرضیہ اور زکیہ جیسے القابات مشہور ہیں۔ یہ تمام القابات آپ کی عظمت، پاکیزگی اور بلند مقام کی نشاندہی کرتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں فرمایا کہ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ مجھ سے ہیں اور میں فاطمہ سے ہوں۔ یہ تمام ارشادات حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت و محبت کو ظاہر کرتے ہیں۔

لیکن اگر ہم غور کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ایک ایسی نسبت عطا فرمائی جو نہایت منفرد اور عظیم ہے۔ وہ نسبت ہے اُمّ ابیہا، یعنی اپنے والد کی ماں۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماں کسے کہتے ہیں؟

ماں وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کے ہر دکھ درد کو سمجھتی ہے، جو اپنی اولاد کے لیے ہر وقت قربانی دینے کے لیے تیار رہتی ہے۔ ماں وہ ہے جس کے لیے اپنی اولاد کی تکلیف برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب اولاد کو کوئی زخم پہنچتا ہے تو ماں کا دل بھی درد محسوس کرتا ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کی پیدائش سے لے کر زندگی کے ہر مرحلے تک اس کی دیکھ بھال کرتی ہے، اس کے دکھ میں شریک ہوتی ہے اور اس کی خوشی میں خوش ہوتی ہے۔

ماں کی محبت اور قربانی کی مثال کسی دوسری ہستی سے نہیں دی جا سکتی۔ ماں اپنی اولاد کے لیے ہر تکلیف برداشت کرتی ہے، لیکن اپنی اولاد کو تکلیف میں دیکھنا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اُمّ ابیہا کیوں کہا؟

حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی تھیں لیکن آپ نے اپنے والد کے ساتھ ایک ماں جیسی محبت، شفقت اور دیکھ بھال کا مظاہرہ بھی کیا۔

جب حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا دنیا سے رخصت ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک بڑا غم تھا۔ اس وقت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے والد کے غم کو محسوس کیا اور ان کے ساتھ محبت و شفقت کا مظاہرہ کیا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف کے سفر میں تکالیف سے گزرے، جب کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیتیں پہنچائیں اور آپ کے جسم مبارک کو زخم آئے، تو حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اپنے والد کی خدمت میں حاضر ہوتیں، آپ کے زخموں پر مرہم رکھتیں اور آپ کی دیکھ بھال کرتیں۔

حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اپنے والد کے ہر دکھ، ہر غم اور ہر تکلیف میں شریک رہتی تھیں۔ آپ اپنے والد کی خدمت، محبت اور شفقت میں اس طرح پیش پیش تھیں جیسے ایک ماں اپنی اولاد کی دیکھ بھال کرتی ہے۔

یہی وہ محبت، شفقت اور قربانی تھی جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اُمّ ابیہا، یعنی اپنے والد کی ماں، فرمایا۔

یہ لقب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لیے نہایت عظیم مقام و منزلت کی نشانی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب بیٹی ہی نہیں تھیں، بلکہ آپ اپنے والد کے لیے محبت، سکون، شفقت اور خدمت کا ایک عظیم ذریعہ بھی تھیں۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ محبت صرف الفاظ کا نام نہیں، بلکہ محبت خدمت، قربانی، شفقت اور اپنے عزیزوں کے دکھ درد میں شریک ہونے کا نام ہے۔

سلام ہو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر جن کی عظمت، پاکیزگی، محبت اور مقام و مرتبہ ہمیشہ اہلِ ایمان کے دلوں میں روشن رہے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha